Author: admin
-
Mango Benefits For Health
پاکستان میں جیسے جیسے گرمی بڑھتی جارہی ہے آموں کی آمد بھی قریب ہوتی جارہی ہے۔ہمارے ملک میں پکے ہوئے آم تو سب شوق سے کھاتے ہی ہیں، لیکن کچے آم بھی بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں، ان سے مشروب بھی تیار کیا جاسکتا ہے وار چٹنیوں کو مزید چٹخارے دار بنایا جاسکتا ہے۔اسی طرح کیری کا اچار بنا کر فریج میں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ آپ یہاں کچے آموں کے چند فوائد جانیں، جو صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ہیں۔Mango Give Protection from extreme heat and dehydration
کچے آموں کا جوس پینا صرف فرحت بخش ہی نہیں بلکہ یہ شدید گرمی کے اثرات کو کم کرکے ڈی ہائیڈریشن کی روک تھام کرتا ہے۔ گرمیوں میں پسینے کی شکل میں بہت زیادہ سوڈیم کلورائیڈ اور آئرن خارج ہوسکتا ہے، جس سے جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوتا ہے، کیری کا شربت اس سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
کچے آم کا استعمال معدے کے عوارض سے بچاﺅ میں مدد دیتا ہے، جو موسم گرما میں کافی عام ہوجاتے ہیں۔ کیری کھانے کی عادت قبض، ہیضے، سینے کی جلن اور متلی کی کیفیت اور بدہضمی سے تحفظ یا ان کا اچھا علاج ثابت ہوتی ہے۔دل کے لیے فائدہکچے آموں میں نیاسن نامی ایسڈ ہوتا ہے جو کہ دل کے لیے صحت بخش جز ہے، نیاسن خون کی شریانوں کے مسائل سے جڑے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ بلڈ کولیسٹرول لیول بہتر کرتا ہے۔Treatment of Meat Eating (Gum Diseases) through Mango
کیری کا سفوف یا آمچور کو گوشت خورے کا موثر علاج سمجھا جاتا ہے، اس مرض میں اکثر مسوڑوں سے خون، خراشیں، کمزوری اور تھکاوٹ وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے۔ کچے آم وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں اور عام طور پر اس کی کمی ہی اس مرض کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح یہ وٹامن خون کی شریانوں کی لچک بڑھاتا ہے اور خون کے سرخ خلیات کو بڑھاتا ہے جس سے اینیما کا مسئلہ بھی کم ہوتا ہے۔Mango Beneficial for liver and intestines
کچے آم جگر کے لیے بہت فائدہ مند ہیں اور یہ جگر کے مختلف امراض سے بچانے یا علاج میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیری کے ٹکڑوں کو چبانا چھوٹی آنت میں پتے میں بننے والے سیال بائل کو داخل کرتا ہے، جہاں وہ چربی کو جذب کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے جبکہ غذا میں موجود نقصان دہ جراثیموں کو مارتا ہے۔معمولی مقدار میں کیری کا سفوف دوپہر کے وقت کی سستی کو دور کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے جو عام طور پر کھانے کے بعد طاری ہوتی ہے۔ درحقیقت کچے آم جسمانی توانائی بڑھاتے ہیں اور کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں -
General Knowledge And Basic Informations About Pakistan
General Knowledge And Basic Informations About Pakistan
پاکستان_کے_بارے_میں_اہم_معلومات*
👈 پاکستان کا نام جنوری 1933میں چوہدری رحمت علی خاں نے تجویز کیا تھا ۔
👈 پاکستان کے قیام کا اعلان 3جون 1947کو ہواتھا
👈 پاکستان اقوامِ متحدہ کا رکن 30ستمبر 1947 کو بنا تھا ۔👈 پاکستان کا پہلا سکہ 3جون 1948 کو جاری ہوا تھا ۔
👈 پاکستان کا پہلا ڈاک ٹکٹ 9جولائی 1948 کو جاری ہوا تھا ۔
👈 اسلام آباد کو پاکستان کا دارالحکومت 1960 میں بنایا گیا تھا ۔👈 پاکستان کا پہلا ٹی وی سٹیشن 24 نومبر 1964 کو قائم ہوا ۔
👈 پاکستان ریڈ کراس سِوسائٹی کا نام بدل کر 1974 میں ہلالِ احمر رکھا گیا ۔
👈 پاکستان نے 28مئی 1998 کو چاغی بلوچستان کے مقام پر چھ ایٹمی دھماکے کئے ۔👈 پاکستان کا جھنڈا قائد اعظم نے ڈیزائن کیا۔
👈 پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں موسم کی نوعیت بدلتی رہتی ہے یہاں چاروں موسموں کا لطف لیا جا سکتا ہے ۔ اگر گرمی کی حدت 55ڈگری تک جاتی ہے تو سردی کی شدت ّ22 تک ہو جاتی ہے ۔
👈 ہمارے پاس ضلع جہلم میں دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کان ہے جو تقریبا 20 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہے ۔ اور یہ نمک بھی خالص ترین نمک ہے ۔ کھیوڑہ کے نام سے یہ جگہ دنیا بر مین جانی پہچانی جاتی ہے ۔
👈 جدید ترین جائزے کے مطابق ہمارے پیارے صوبہ بلوچستان میں کوئلے کے سب سے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں ۔
👈 ہماری سرزمین سے چونے کا پتھر جو سیمنٹ بنانے کے کام آتا ہے ۔سب سے زیادہ نکلتا ہے ۔ اس سے بننے والا سیمنٹ کسی بھی طرح معیار میں کم نہی ۔
👈 ہمارے صوبے بلوچستان کے جنگلات میں صنوبر اور چیڑ کے درختوں کی ایسی اقسام ہیں جو دنیا میں اور کہیں نہی مِلتیں ۔👈 مارکو پولو نامی بھیڑ صرف پاکستان کے شمالی علاقوں میں ملتی ہے ۔
👈 انتہائی خوبصورت پرندہ تلور صرف صحرائے بلوچستان میں ملتا ہے ۔
👈 سنگ چور نامی دنیا کا سب سے زیادہ زہریلا سانپ صرف پاکستان میں ہی پایا جاتا ہے ۔👈 دنیا میں سب سے میٹھے اور لذیذ آم شجاع آباد پاکستان کے مانے جاتے ہیں ۔
👈 دنیا کا سب سے اعلیٰ نہری نظام صرف پاکستان کا ہے ۔
👈 دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل تربیلا جھیل ہے ۔👈 پنکھوں کی سب سے بڑی صنعت ہمارے شہروں گوجرانوالہ اور گجرات ہے ۔
👈 لکڑی کی کے مشہور و معروف فرنیچر کیلئے ہمارا شہر چنیوٹ مشہور ہے ۔👈 دنیا کا سب سے بڑا قبرستان پاکستان کے شہر ٹھٹھہ میں ہے ۔👈 دنیا کا سب سے انوکھا منفرد اور دلچسپ نام کا شہر دوڑ بھی پاکستان کے صوبہء سندھ میں واقع ہے👈 دنیا میں کھیل کود کے سامان کی سب سے بڑی صنعت سیالکوٹ میں ہے👈 دنیا کی چوڑیوں کی سب سے بڑی صنعت پاکستان کے شہر حیدرآباد میں ہے
👈 ایدھی ایمبولینس سروس دنیا کی انفرادی ایمبولینس سروس ہے جو 600 ایمبولینس گاڑیوں پر مشتمل ہے ۔
👈 دنیا کا سب سے بڑا فٹبال سیالکوٹ میں بنایا گیا 2002 میں اسکا قطر 4 میٹر تھا ۔👈 دنیا کے دوسری بلند ترین چوٹی K-2 بھی پاکستان میں واقع ہے۔👈 دنیا کی سو میں سے چالیس بلند ترین چوٹیاں Concordia کے مقام پر پاکستان میں واقع ہیں جنکو چاند پر سے بھی دیکھا جا سکتا یے۔👈 دنیا کے تین بلند ترین پہاڑی سلسلے ہمالیہ , قراقرم اور ہندوکش بھی پاکستان میں ملتے ہیں۔👈 دنیا میں گہرے پانی سب سے بڑی اور اہم بندرگاہ گوادر بھی پاکستان میں واقع ہے۔👈 ڈائنوسار کا مکمل اور قدیم ترین ڈھانچہ بھی پاکستان میں چکوال کے علاقے سے دریافت ہوئے۔👈 دنیا کی بلند ترین شاہراہ شاہراہِ قراقرم بھی پاکستان میں واقع ہے۔👈 دنیا میں دوسری بلند ترین سطع مرتفع دیوسائی بھی پاکستان میں واقع ہے۔👈 پاکستان کے سندھ طاس ڈیلٹا پنجاب کا خطہِ دنیا کے ذرخیز ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔👈 اسلامی ممالک میں نمبر ایک اور دنیا میں چھٹی سب سے بڑی فوجی طاقت بھی پاکستان کی ہے۔👈 پاکستان سٹریٹیجک لحاظ سے دنیا کا سب اہم جغرافیائی ملک ہے جو بیک وقت خلیج فارس کے دروازے پر اور دوسری جانب وسطی ایشیاء اور مشرقی ایشیا و ہند کے بالکل درمیان میں واقع ہے. -
What is this Current Account Amazing Informations About This
What is this Current Account Amazing Informations About This
یہ “کرنٹ اکاؤنٹ” آخر شے کیا ہے ؟
جب سے خان صاحب وزیراعظم پاکستان منتخب ہوۓ ہیں اور معیشت کو درست کرنے کا بیڑہ اٹھاہے لوگ سبسڈی، ایز آف ڈوئنگ بزنس، کرنٹ اکاؤنٹ اور کیپیٹل اکاؤنٹ جیسی چیزوں کو بھی سوچنے اورسمجھنے کی کوشش میں لگے ہیں ۔۔ وگرنہ اس سے پہلے تو بس اتنا ہوتا تھا کہ جون کے مہینے میں بجٹ پیش ہوا ہے اور اس میں فلاں فلاں ٹیکس لگ گیا ہےان میں سب سے زیادہ چرچا “کرنٹ اکاؤنٹ” کا ہے، اور دوست اس بارے میں جاننے کا شوق رکھتے ہیں ۔۔ کیونکہ ہم نے تو اپنی ہوش میں ہمیشہ “خسارے” کا نام ہی سنا ہے تو ہمارے ہاں کرنٹ اکاؤنٹ کی بجاۓ “کرنٹ اکاؤنٹ خسارے” کا ذکر زیادہ ہوتا ہےSearch Results
Web result
Current Account Formulaتو آئیے آج “کرنٹ اکاؤنٹ” کو آسان اور عام فہم الفاظ میں کچھ مثالوں کے ساتھ سمجھتے چلتے ہیں ۔۔۔۔کرنٹ اکاؤنٹ کو اردو میں “جاری کھاتے” کہا جاتا ہے، یعنی یہ کھاتا ہر وقت ایک Flow میں رہتا ہے ۔۔ اس اکاؤنٹ میں ہر وقت کچھ نا کچھ آرہا ہو گا یا کچھ نا کچھ نا کچھ جا رہا ہوگااس اکاؤنٹ یا کھاتے کا سب سے بڑا اور اہم ترین حصہ “تجارت” ہے، یعنی درآمدات اور برآمدات کا فرق ہےمثال کے طور پر اگر برآمدات (ایکسپورٹس) 100 روپیہ ہیں اور درآمدات (امپورٹس) 80 روپیہ ہیں تو ملک میں 100 روپیہ آ رہا ہے اور 80 روپے جا رہے ہیں ۔۔ سو تجارت کا توازن (Balance of Trade) 20 روپے “فائدے” میں ہے ۔۔ یہ 20 روپے کا فائدہ “کرنٹ اکاؤنٹ” میں چلا جاۓ گاکرنٹ اکاؤنٹ کا (ہمارے حساب سے) دوسرا اہم حصہ Foreign Remittences یعنی بیرون ملک مقیم افراد کی جانب سے ملک میں بھیجا گیا پیسہ ہے ۔۔ اگر یہ رقم 100 روپیہ آتی ہے اور 20 روپے ملک سے باہر جاتی ہے تو بچنے والا 80 روپے کا فائدہ بھی کرنٹ اکاؤنٹ میں چلا جاۓ گااس کا ایک اور پہلو Services یعنی “خدمات” کا بھی ہے، یعنی جو لوگ ملک میں بیٹھ کر ملک سے باہر لوگوں کو پیسوں کے عوض کچھ کام کر کے دیتے ہیں ۔۔جیسے Fiver اور UpWork پر کام کرتے ہیں، باہر کی کمپنیوں کیلئیے کام کرنے والے کال سینٹرز وغیرہ ۔۔ تو اس سے حاصل ہونے والا پیسہ بھی “کرنٹ اکاؤنٹ” کا حصہ ہوتا ہےاس کے علاوہ اگر بیرون ملک سے لوگ علاج کروانے، سیر سپاٹا کرنے اور پڑھنے کیلئیے آ رہے ہیں تو ان کے زریعے آنے والی رقم بھی کرنٹ اکاؤنٹ کا حصہ ہوگی ۔۔ اسی طرح اگر ملک سے لوگ باہر علاج کروانے، تعلیم حاصل کرنے یا سیر سپاٹے کیلئیے جا رہے ہیں تو وہ رقم ملکی کرنٹ اکاؤنٹ سے منفی (Minus) ہو جاۓ گی ۔۔ اسی طرح بیرونی امداد بھی کرنٹ اکاؤنٹ میں شامل ہوتی ہےWhat Is a Current Account In Bank
سو مندرجہ بالا تمام معاملات کا حساب کتاب کرنے کے بعد اگر تو ملک میں پیسے آ زیادہ رہے ہیں لیکن باہر کم جا رہے ہیں تو “کرنٹ اکاؤنٹ” منافعے (سرپلس) میں ہوگا، اور اسی طرح اگر پیسے باہر زیادہ جا رہے ہیں لیکن آ کم رہے ہیں تو “کرنٹ اکاؤنٹ” خسارے (ڈیفیسٹ) میں ہو گا ۔۔ (یاد رکھئیے کہ کرنٹ اکاؤنٹ کا تعلق صرف دوسرے ممالک کے ساتھ لین دین اور غیر ملکی کرنسی سے ہوتا ہے)اب اگر اپنے پاکستان کی بات کریں تو بدقسمتی سے ہم تو گھاٹے اور خسارے ہی سنتے اور دیکھتے چلے آۓ ہیں ۔۔ آصف زرداری صاحب لگ بھگ ڈھائ ارب ڈالر کا “کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ” چھوڑ کر گئے تھے جسے میاں صاحب 700 فیصد اضافے کے ساتھ 20 ارب ڈالر تک لے گئےجی ہاں آپ نے صحیح سنا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 700 فیصد اضافہاس کے ساتھ ایک ظلم اور بھی کیا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار برآمدات میں ایک فیصد بھی اضافہ نا کیا گیا جس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ کا اہم ترین حصہ “تجارت” (درآمدات اور برآمدات) کا خسارہ ملکی تاریخ کے بلند ترین مقام37 ارب ڈالر تک پہنچ گیاWhat is this Current Account Amazing Informations About This
وہ تو بھلا ہو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا جنہوں نے کوئ 20 ارب ڈالر بھیجا تو اس قدر بڑے “کرنٹ اکاؤنٹ خسارے” میں کمی آئ ورنہ یہ کمی بھی مزید قرضے لے کر پوری کرنی پڑتیخان صاب نے حکومت بناتے ہی ملکی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے ۔۔ زرا تخیل میں لا کر دیکھئیے کہ مرکزی بنک کے پاس جتنے پیسے ہوں فوری طور پر واجب الادا قرضے کی اقساط اور سود اس “موجود” رقم سے زیادہ ہو ۔۔ (یہاں ذہن میں رہے کہ سابقہ حکمرانوں کی طرف سے یہ بات بلاوجہ نہیں کہی گئ تھی کہ اب عوام جانے اور اگلی حکومت جانے)آج سے چھے ماہ (کرونا وائرس سے پہلے) معیشت کا ایک ایک پہلو بہتری کی جانب گامزن تھا اور سیاسی مخالف کیمپ میں مکمل خاموشی چھا چکی تھی، لیکن جیسے ہی کرونا وائرس نے معیشت کو اتھل پتھل کیا یہ لوگ پھر سے سامنے آ گئے اور ایسے کیڑے نکالنے شروع کر دئیے جیسے یہ قصور وبا کا نہیں بلکہ حکومت کا ہوآج ثم الحمداللہ یہ کرنٹ کاؤنٹ کا یہ خسارہ 20 ارب ڈالر سے کم ہو کر 3.29 بلین ڈالر تک آ چکا ہے اور مئ کے مہینے میں (سات ماہ کے وقفے کے بعد) ہمارا “کرنٹ اکاؤنٹ” خسارے کی بجاۓ ایک بار پھر منافعے میں آ گیا ہے ۔۔ جہاں ہم دو سال پہلے معاشی تباھی کے آتش فشاں کے دھانے سے بچ کر آ گئے تھے ان شا اللہ کرونا وائرس کی مشکالات سے بھی اللہ کی نصرت اور محنت سے نکل آئیں گےمعیشت کی بہتری میں اصل کام متعلقہ اداروں کی “ریفارمز” کا ہوتا ہے جو الحمداللہ کافی حد تک مکمل ہو چکی ہیں، اس لئیے یہ وبا گزرنے کے بعد دوبارہ پاؤں پر کھڑے ہوتے دیر نہیں لگے گی ۔۔ ان شا اللہ پاکستان کی ترقی کا وہ سفر دوبارہ شروع ہوگا جس کی تعریف موڈیز، بلومبرگ اور ورلڈ بنک جیسے معروف بین الاقوامی ادارے وبا سے پہلے مسلسل کر رہے تھے !!What is this Current Account Amazing Informations About This
-
Amazing And Wonderful Informations About Human
Amazing And Wonderful Informations About Human
آپ ٹھیک کیـــوں نہیــں ہـوتــے
آپ بہتری حاصل نہیں کرپاتے پاتے کیونکہ جب آپ کی زندگی میں کوئی اچھی چیز آجاتی ہے تو آپ اسے مسترد کرتے ہیں اور جو چیز آپ کو خوش نہیں کرتی ہے اس کو ترجیح دیتے ہیں۔آپ بہتری حاصل نہیں کرتے کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ آپ اپنی بیماری کی اصلیت ہیں۔آپ بہتری حاصل نہیں کر سکتے کیوں کہ آپ اپنے اندر موجود طاقتور اور قیمتی وجود کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔آپ بہتری حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ آپ اپنے آپ کو نظرانداز کرتے رہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آپ کی دنیا میں سب کچھ ٹھیک ہے۔What is the most amazing thing about the human body?
آپ بہتری حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ آپ میں ان لوگوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں کی جو آپ کی زندگی کو ہدایت کرتے ہیں۔What are interesting facts about the human body?
آپ بہتری حاصل نہیں کر سکتے کیوں کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ تعلقات کاٹنے کے لئے اپنی کینچی کا استعمال نہیں کرتے جو اب آپ کو دوا نہیں دیتے ہیں۔آپ شفا یاب نہیں ہوتے کیونکہ آپ نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہمیشہ قربانی دینا دوسروں سے محبت ظاہر کرنے کا ایک طریقہ ہے۔️ ️ آپ شفا نہیں پاتے کیونکہ آپ اپنے آپ کو غصے اور رنجشوں سے پاک کرنے کے لئے معافی کا جادو استعمال نہیں کرتے ہیں۔What are some amazing facts?
آپ شفا نہیں پاتے کیوں کہ آپ اپنے اردگرد موجود انسانوں کی آزادانہ خواہش کا احترام نہیں کرتے ہیں جیسے وہ ہیں۔آپ شفا نہیں پاتے کیوں کہ آپ اپنے جسم کو گولیوں اور کیمیائی مادے سے نشہ آور کرتے ہیں جو اندرونی تکرار کی علامتوں کو خاموش کردیتے ہیں۔What are the most interesting facts about human behavior?
جب آپ کو خوشی ملے تو آپ تب بھی بہتری حاصل نہیں کر پاتے ہیں کیوں کہ آپ ماضی سے چمٹے رہتے ہیں۔ آپ کے پاس آزاد مرضی ہے ، اگر آپ خود کو رہنمائی نہیں کرنے دیتے ہیں تو ، آپ کو زبردستی بہتر نہیں کیا جائے گا ، اگر آپ خود کو ٹھیک نہیں کرنا چاہتے تو آپ شفا نہیں پائیں گے۔آپ شفا نہیں پاتے کیوں کہ آپ سورج سے بھاگتے ہیں ، آپ سمندر سے بات نہیں کرتے ہیں ، درختوں سے بات نہیں کرتے ہیں ، اور آپ یہ بھول چکے ہیں کہ شفاء اور بہتری آپ کے اندر ہیں، ہر مسئلے کا حل آپ خود ہی ہیں۔۔Who designed human body?Amazing And Wonderful Informations About Human
-
Greatest Hero Arfa Abdul Karim Randhawa
(A Star Which Extinct Soon)
It was 2nd February, 1995 when Amjad Abdul Karim Randhawa was blessed with a daughter in a small village of Faisalabad, Chak No.4JB Ram Dewali. No one known that this little angle will be going to become a proud for Pakistan.Arfa Karim Randhawa was a Pakistani student and youngest computer professional. In 2004 when She was only 9 years old, the age when girls used to play with dolls she became Youngest Certified Professional (MCP). At that time she became the icon of Pakistan. She was invited by Bill Gates to visit Microsoft Headquarters in the United States.Arfa Karim as a Star:When she came back to Pakistan after visiting Microsoft headquarters .she gave a number of interviews. She was invited by several international conferences and received different awards at national and international level. Arfa Karim represented Pakistan at international platforms. She became a Child prodigy.Awards and Achievements:Arfa Karim’s biggest achievement was the invitation of Bill Gates, who gave her an invitation to visit Microsoft Headquarters. She was awarded by Pride of Performance award from Government of Pakistan. The Prime Minister of that time Shaukat Aziz also awarded her Fatimah Jinnah Gold Medal in the field of Science and Technology. In August 2005 she had achieved Salam Pakistan Youth Award. She was made brand ambassador for Pakistan Telecommunication Company’s 3G Wireless Broadband service, named EVO in January 2010.“Death is not the greatest loss in life. The greatest loss is what dies inside us while we live”. (Arfa Karim).
In 2011, when she was 16, she was studying in A-Levels at the Lahore Grammar School. She was a lively girl with big dreams. She wished to establish a Silicon Valley in Pakistan where she wanted to provide computer education free of cost. But life did not faithful with her.It was the day of 22nd December 2011 when she suffered from epileptic seizure that damaged her brain. It was not only epileptic attack but she also suffered from cardiac attack after epileptic attack. She was shifted to CMH Lahore in emergency. Whole country and Microsoft professionals were praying for her. Everything will made possible for her complete recovery even Bill Gates had offered air ambulance and complete treatment for her and even arranged a panel of specialized doctors where he discussed about the condition of Arfa. But it was not possible that Arfa Karim was shifted from one hospital to another because she was on ventilator at that time and it was risky to move her in this critical condition.On 13th January 2012 doctors seen a ray of hope because Arfa Karim was improving and her brain showed response. But it was peace was actually alarming the greatest loss.The day of 14 January 2012 come with the bad news about Arfa’s death. This was the greatest loss of Pakistan and Microsoft. She had a potential and only in a short life of 16 years she left this temporary world but made a place in millions of hearts where she will live forever.On the following days her funeral was held and attended by Chief Minister of Pakistan and several well known personalities. She was buried in her ancestral village in Faisalabad.After her death Lahore Technology Park was renamed as Arfa Software Technology Park. She has her name in Guinness Book of World Records. She left this world but opened ways for youth of Pakistan.“People say I am genius. I might be one but I am not the only one. There are many other Pakistani girls and boys like me. All those gems need, is a little bit of polishing. And I will do it. That’s my aim. (Arfa Karim Randhawa). -
Corona is Spreading Rapidly in Pakistan Serious Condation
Corona is Spreading Rapidly in Pakistan Serious Condationکورونا پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جس کے جاننے والے، کسی عزیر رشتہ دار کو یہ وائرس نہ لگا ہو لیکن اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس وائرس کے شکار افراد میں بہت ہی کم تعداد کے لوگوں کو تشویش ناک بیماری اور موت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ میرے بھی بہت سے جاننے والوں، رشتہ داروں کو اس وائرس کا سامنا کرنا پڑا لیکن رب کریم کی رحمت سے سب کے سب یا تو بالکل صحت یاب ہو چکے ہیں یا اگر اُن کو کوئی بیماری ہے بھی تو وہ تشویش ناک نہیں ہے۔ ایک جاننے والے کی نوے سالہ بہن، اُن کے ساٹھ سالہ بیٹے اور گھر کی دوسری خواتین کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا لیکن ماشاء اللہ سب ٹھیک ہو گئے، کسی کو تشویش ناک حالت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مری سے تعلق رکھنے والے ایک میاں بیوی جن کی عمر کوئی اسّی سال کے لگ بھگ ہے، کے بیٹے اور کچھ دوسرے جاننے والوں کو کورونا ہوا، کچھ نے ٹیسٹ کروایا کچھ نے کہا وہ ٹیسٹ نہیں کروائیں گے لیکن اللہ کے کرم سے سب بخار اور کچھ دوسری ہلکی پھلکی بیماریوں کے بعد ٹھیک ہو گئے ہیں۔ ایک جاننے والے کو کورونا کی وجہ سے کوئی دس پندرہ دن بخار ہوا، وہ گھر پر ہی رہے اور عام دوائیوں سے علاج کرتے رہے، اب اُن کا بخار بھی اتر گیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس بخار سے اُنہیں بہت کمزوری محسوس ہوئی۔ پہلے تو میرے آبائی علاقہ مری میں کورونا کی شکایات بہت کم تھیں لیکن اب یہ وائرس وہاں بھی بہت پھیل چکا ہے۔بہت بڑی تعداد میں لوگ ٹیسٹ کرائے بغیر ظاہر ہونے والی علامات کا علاج کرتے ہیں اور میرے کسی ایک بھی جاننے والے کی حالت تشویش ناک نہیں ہے۔ برطانیہ میں مقیم ایک جاننے والے سے میری کچھ دن پہلے بات ہوئی تو اُنہوں نے بتایا کہ اُن سمیت اُن کی بیوی اور تمام بچوں کو کورونا کی علامات ظاہر ہوئیں لیکن وہ نہ اسپتال گئے اور نہ ہی اُن کی حالت اتنی خراب ہوئی کہ وہ اسپتال جانے کے بارے میں سوچتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے بچے تو دو، دو دن چھوٹی موٹی بیماری کے بعد ٹھیک ہو گئے لیکن وہ اور اُن کی بیوی کو کوئی دس پندرہ دن بخار، کھانسی اور گلے درد کا مسئلہ رہا جو عام دوائیاں کھانے سے ٹھیک ہو گیا۔ میری معلومات کے مطابق مری میں اب تک کورونا سے دو افراد وفات پا چکے ہیں جن میں سے ایک کی فیملی کو میں جانتا ہوں جن کا کہنا ہے کہ اُن کے عزیر کی موت کورونا سے نہیں ہوئی لیکن اسپتال والوں نے کہا کہ اگر میت کو فوری لینا ہے تو اسے کورونا ڈکلیئر کرنا پڑے گا۔ اس فیملی کے مطابق اُنہوں نے مرحوم کا کورونا ٹیسٹ ایک پرائیوٹ لیب سے بھی کروایا تھا جس کے مطابق اُن کا کورونا نیگیٹیو تھا۔ اس قسم کی شکایات بہت سے لوگ کرتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر اسپتال ایمرجنسی میں لائے گئے مرنے والے ہر مریض کو کورونا کا متاثر ڈکلیئر کر دیتے ہیں۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر حکومت کو توجہ دینی چاہیے تاکہ کسی دوسرے امراض سے مرنے والے کو کورونا کا متاثرہ نہ ڈکلیئر کیا جائے۔ایک اور معاملہ جو بہت خطرناک ہے وہ کورونا ٹیسٹ کی درستی کے بارے میں ہے۔ یہ شکایت عام ہے کہ اگر ایک لیب کسی فرد کو کورونا مثبت ظاہر کرتی ہے تو کوئی دوسری لیب اُس کو کورونا منفی دکھاتی ہے۔ ٹیسٹ حکومتی اسپتالوں، این آئی ایچ کے ہوں یا نجی لیب اور اسپتالوں کے، ان ٹیسٹوں کے درستی پر بہت سوال اٹھائے جا رہے ہیں جس کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کورونا ٹیسٹ مستند ہوں۔ کورونا ٹیسٹوں سے متعلق شکوک و شبہات کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ایک ٹیسٹ سے مطمئن نہیں ہوتے۔ خصوصاً جن افراد کا پہلا کورونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو وہ اپنا دوسرا ٹیسٹ ضرور کسی دوسری لیب سے کرواتے ہیں اور دوسرا ٹیسٹ مثبت ہونے پر کسی تیسری لیب سے ٹیسٹ کروایا جاتا ہے۔ یعنی کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نام پر دھوکا بھی ہو رہا ہے اور خوب پیسہ بھی کمایا جا رہا ہے۔ اس معاملہ کی طرف حکومت کو فوری توجہ دینی چاہئے۔ابھی تک کورونا کے معاملہ میں پاکستان میں ہونے والی اموات اُس اندازے سے بہت کم ہیں جس کا عمومی طور پر ہمیں ڈر تھا۔ حقیقت میں پاکستان میں ہو سکتا ہے کوئی دس بیس لاکھ لوگ کورونا سے متاثر ہو چکے ہوں کیونکہ ہمارے ہاں نہ تو بہت زیادہ ٹیسٹ کروانے کی استعداد ہے اور نہ ہی ہمارے زیادہ تر لوگ ٹیسٹ کرانے کو ترجیح دیتے ہیںلیکن اس سب کے باوجود لوگوں کو چاہئے کہ وہ احتیاط ضرور کریں اور اُن ہدایات پر ضرور عمل کریں جو اس وائرس سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ -
Very Important And Amazing Knowledge About Pakistan
Very Important And Amazing Knowledge About Pakistan
*Name:*
*Islamic republic of Pakistan** Stay: *
* 27 Ramadan 1366 AH (Islamic Calendar) *
* August 14, 1947 (Calendar) ** Total area (796,096 sq km) *
* Ground Boundaries (770,875 sq km) *
* Maritime boundaries (25,220 sq km) ** Province Five *
* Balochistan: *
* Area = 347,190 sq km *
* Districts = 32 ** Punjab: *
* Area = 205,345 sq km *
* Districts = 36 ** Khyber Pakhtunkhwa: *
* Area = 74,521 sq km *
* Districts = 26 ** Sindh: *
* Area = 140,914 sq km *
* Districts = 24 **Islamabad:*
* Area = 906 sq km *
* Districts = 1 ** FATA: *
* Area = 27,220 sq km *
* Districts = 13 ** Azad Jammu and Kashmir: *
* Area = 13,297 sq km *
* Districts = 10 ** GB: *
* Area = 72,971 sq km *
* Districts = 10 ** Continent: *
* Asia ** Area: *
* South Asia ** Border partnership: *
* India, China, Afghanistan, Iran ** Four limits: *
* China in the North *
* Arabian Sea to the south *
* India in the East *
* Iran in the West *
* Afghanistan in the North West ** Border Lines: *
* Pak-India Border Line (Radcliffe Line) *
* Temporary demarcation of Kashmir (LoC) *
* Pak-Afghan Border Line (Durand Line) ** Border limits: *
* (7,257 km) *
* Afghanistan (2,670 km) *
* China (438 km) *
* India (3,190 km) *
* Iran (959 km) ** Main exports: *
*cotton wool*
* Electric devices *
* Leather and leather products *
* Rice *
* Sporting Goods *
* Cloth *
* Surgical instruments *
* Light weapons *
* Engineering Equipment *Very Important And Amazing Knowledge About Pakistan
* Important Imports: *
* Machines *
* Mineral oil *
* Cotton and silk thread *
* Chemical *
* Vehicles *
* Filter *
* Petroleum and oil *
* Industrial Equipment ** Botany: *
* Pine *
* Oak *
* Pine (ethnic tree) *
* Mulberry *
* Poplar *
* Maple ** Regional Animal and Biology: *
* Partridge *
* Markhor (national animal) *
*Square*
* Himalayan Black Bear *
* Cheetah *
* Mountain goat *
* Green tortoise *
* Blue cow *
* Marco Polo crowd *
* Deer *
* Black deer *
*crocodile*
* Dolphin (National Mammal) *
* Snow Leopard *
* Different types of ducks and ducks *
* Types of snakes *
* Wolves and other rare species of wildlife ** Tourist Location: *
* Die *
* Kagan *
* Quetta *
* Hunza *
* Visit *
* Swat *
* Chitral *
* Gilgit ** Ancient civilizations and monuments: *
* Mohenjo-daro *
* Harappa *
* Taxila *
* Throne Brother *
* Mehrgarh *
* Quote *Very Important And Amazing Knowledge About Pakistan
*Road:*
* (251,845 km) ** Pakistan Railways: *
* (7,791 km + 781 stations) ** Pakistan International Airlines: *
* 44 aircraft *
* Total airports (151) *
* International (33) *
* Regional airports (21) *
* Cooked runway (108) *
* With rough runway (43) *
* Helipad (23) ** Main airports: *
* Jinnah International Airport (Karachi) *
* Benazir International Airport (Islamabad) *
* Allama Iqbal International Airport (Lahore) *
* Multan International Airport *
* Quetta International Airport *
* Peshawar International Airport *
* Faisalabad International Airport *
* Gwadar International Airport ** Main mountain passes: *
* Khyber Pass *
* Pass Gomal *
* Darra Bolan *
* Darra Tochi *
* Darra Khanjarab *
* Darra Lowari ** Main Dam: *
* Tarbela Dam *
* Mangla Dam *
* Warsak Dam **Education:*
* Primary School (164,200) *
* Middle School (19,100) *
* High Schools (12,900) *
* Arts and Science Colleges (925) *
* Vocational Colleges (374) *
* Universities (29) ** Major Universities and Educational Institutions: *
* Quaid-e-Azam University (Islamabad) *
* International Islamic University (Islamabad) *
* Bahauddin Zakaria University (Multan) *
* Allama Iqbal Open University *
* Punjab University (Lahore) *
* Nishtar Medical College (Multan) *
* Islamia College (Peshawar) *
* Government College University (Faisalabad) *Very Important And Amazing Knowledge About Pakistan
*the sea:*
*Arabian Sea** Ports: *
* Port Karachi *
* Port Qasim *
* Port Sweat *
* Port Gwadar ** Desert: *
* Thar Parker (Sindh) *
* Thal (71,306 hectares) *
* Cholistan (2,032,667 hectares) * -
The Invention of the Computer The computer has become Life
The Invention of the Computer The computer has become Life
معلوماتی دُنیا
how the computer has changed the lives of students essay
کمپیوٹر کی اِیجاد ہماری زندگی میں کمپیوٹر لازم و ملزوم ہو چکا ہے
اور کیوں نہ ہو
یہ ہمارے اتنے کام بھی آتا ہے
لیکن!
کیا آپ جانتے ہیں کمپیوٹر کس نے ایجاد کیا؟
اس کی ایجاد کے پیچھے بہت ہی دلچسپ اور طویل کہانی چھپی ہے
لیکن ہم اپنے دوستوں کو اس ایجاد کا خلاصہ بتاتے ہیںایک بات ذہن نشین رہے کہ کسی بھی ایک اختراع یا ڈیوائس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کمپیوٹر کی پہلی شکل تھی
اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹر کی تعریف تاریخ کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیل ہوتی رہی ہے
اور اسی وجہ سے ناممکن ہے کہ کسی ایک کمپیوٹر کو پہلا کمپیوٹر کہا جاسکے
مثلا اختراعات جن کو کبھی کمپیوٹر تسلیم کیا جاتا تھاآج وہ کمپیوٹر تسلیم نہیں کی جاتیں
اس لئے میری بتائی ہوئی تاریخ میں اور آپ نے جو پڑھا ہو اس میں کچھ فرق ہو سکتا ہےUse Of Computer Word
لفظ ’کمپیوٹر‘ کا استعمالکہا جاتا ہے کہ پہلی بار لفظ ’کمپیوٹر‘ 1613ء میں ایک ایسے فرد کے بارے میں استعمال کیا گیا جس کی کیلکولیشن کی رفتار بہت تیز تھی
Mechanical Computer
مکینیکل کمپیوٹرچارلز بابیج نے 1822ء میں ایک ایسی مشین بنائی جو بہت مشکل کیلولیشن بہت آسانی اور تیزی سے کر سکتی تھی
چارلز کو اپنی اس مشین کی تیاری میں” ایڈا لووی لیس” نے بھی بہت مدد دی
کہا جاتا ہے کہ ایڈا اپنے وقت کی پہلی پروگرامر بھی سمجھی جاتی ہے
لیکن پیسے کی کمی کی وجہ سے چارلز اپنی مشین کو مکمل نہ کرسکا
لیکن 1837ء میں اس نے Analytical Engine کا آئیڈیا دے دیا تھا
جس میں Arithmetic Logic Unit اور دیگر موجودہ دور کے کمپیوٹر کا آئیڈیا موجود تھا
چارلز اپنی زندگی میں اسے نہ دیکھ سکا لیکن اس کے بیٹے ہینری نے 1910ءمیں اس کا کچھ حصہ مکمل کیا
First Program able Computer
پہلا پروگرام ایبل کمپیوٹرجرمنی کی کے کونارڈ زوسے نامی ایک شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ
اس نے دنیا کا پہلا پروگرام ایبل کمپیوٹر 1936ء میں بنایا اور اس کمپیوٹر کا نام Z1 رکھا گیا
Idea Of Modern Computer
ماڈرن کمپیوٹر کا آئیڈیاجو کمپیوٹر ہم آج استعمال کرتے ہیں
اس کا بنیادی ڈھانچہ ایلن ٹیورنگ نے 1936ء میں ٹیورنگ مشین نامی کمپیوٹر سے دیا
یہ مشین کاغذ پر وہ تمام ہدایات پرنٹ کرسکتی تھی جو اسے دی جارہی تھیں
اس آئیڈیا کے بغیر ہم آج کا کمپیوٹر استعمال نہیں کرسکتے تھے
First Computer Company
پہلی کمپیوٹر کمپنیدنیا کی پہلی کمپیوٹر کمپنی Electronic Controls Company جو کہ 1949ء میں J. Presper Eckert اور John Mauchly نے قائم کی
Ram Able First Computer
ریم والا پہلا کمپیوٹرایم آئی ٹی نے مارچ 1955ء میں دنیا کا پہلا کمپیوٹر Whirlwind machine نامی متعارف کروایا
جس میں RAM کاآئیڈیا دیا گیا تھا
PC First Of World
دنیا کا پہلا PC1975ء میں ایڈ روبرٹس نامی سائنسدان نے Personal computer کا لفظ دے کر Altair 8800 نامی کمپیوٹر متعارف کروایا
اور اس وقت اس کی قیمت 750ڈالر (75ہزارروپے) تھی
جو کہ آج کے حساب سے کم از کم پانچ لاکھ روپے بنتی ہے
اس میں مختلف طرح کی روشنیوں اور لائیٹس کا استعمال کیا گیا تھا
The Invention of the Computer The computer has become Life
-
The Locust heart is a silent killer Locust is Bad For Us
The Locust heart is a silent killer Locust is Bad For Us
ٹڈی دل— اگلی بھیانک عالمی وباء
Locust Meaning
یہ موضوع بہت سے لوگوں کیلئے نیا اور حیران کن ہوگا، مگر حقائق بہت بھیانک ہیں. ٹڈی دل ایک خاموش قاتل، ایک بدترین دہشت گرد تنظیم کی طرح پاکستان میں داخل ہوچکا ہے. لاکھوں ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں. اور پاکستان خوراک کے ایک شدید بحران کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے. اور شاید آپ کیلئے یہ ب ہو یعنی locusts کا اس قدر شدید حملہ ہوچکا ہے کہ پاکستان نے ریاستی سطح پہ اس حوالے سے یکم فروری 2020 میں ہی ایمرجنسی کا اعلان کر کے ٹڈی دل کے خلاف ریاستی جنگ کا اعلان کر دیا گیا ہے. جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا نے 29 جنوری 2020 کو صوبائی سطح کی ایمرجنسی کا علان کر دیا تھا. یاد رہے کہ ریاستی سطح کی ایمرجنسی انتہائی اقدام ہوتا ہے جو National level کے crisis ہی میں اٹھایا جاتا ہے. یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ پاکستان پہ یہ ٹڈی دل حملہ کس قدر بھیانک اور خطرناک ہے. میرے اپنے ایک انتہائی قریبی عزیز، جو فوج میں ہیں، نے بتایا ہے کہ فوج کو بڑے پیمانے پہ ٹدی دل حملے سے مقابلے اور بچاؤ کیلئے ٹریننگ کا آغاز کیا جاچکا ہے اور ہماری انٹیلی جینس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اس عالمی وباء سے شدید متاثر ہوگا. لہذا فوج نے ابھی سے کسانوں اور ریاست کی مدد کیلئے ٹریننگ شروع کر دی ہے. جبکہ بہت سے یونٹ فیلڈ میں کام بھی شروع کرچکے ہیں. کرونا وائرس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بھی سپریم کورٹ کو اس ٹڈی دل وباء کے حوالے سے اگاہ کیا جس پہ سپریم کورٹ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے.
Locust Attack Method
ٹڈی دل کیا ہے؟ یہ ٹڈیوں یعنیکی ایک مخصوص قسم ہے جو شدید سبزہ خور یعنی Gregarious ہوتی ہے. ٹڈیوں کی 7005 اقسام میں سے 20 جدید شکل کی سبزی خور ہیں. یہ ٹڈی دل اپنی ساخت، شکل اور رنگ تبدیل کرتے رہتے ہیں اور جیسے جیسے انکو خوراک ملتی جاتی ہے، یہ مزید طاقتور، خطرناک اور بھیانک ہوتے جاتے ہیں ٹڈی دل کی تعداد میں اضافہ بھی بھیانک شرح سے ہوتا ہے. ایک مادہ ایک دن میں 1000 انڈے دیتی ہے اور نمی میسر آ جائے تو ان میں سے سینکڑوں انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں جو ٹڈی دل کی پہلے سے موجود فوج ظفر موج میں مزید لاکھوں کا روزانہ کی بنیاد پہ اضافہ کر دیتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ٹڈی دل کو دور سے آتے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گرد کا کوئی خطرناک طوفان یا گہرے سیاہ بادل آگے بڑھ رہے ہوں. نئے ٹڈی دل میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ یہ زہریلے پودے اور پتے بھی کھا جاتا ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا. جو کہ اس کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے. ایک اندازے کے مطابق یہ ٹڈی دل ایک دن میں 91 میل سے زیادہ کا سفر باآسانی طے کرسکتی ہے. اور فصلوں کو چَٹ کرتی جاتی ہے. یہ دانے دار فصلوں گندم، مکئ، باجرہ، چاول، چنا، دالوں، پھل دار درختوں کی سخت ترین دشمن ہے، جو کہ انسانی خوراک کیلئے انتہائی اہم ہیں. ایک اندازے کے مطابق ایک مربع کلومیٹر میں پھیلا ٹڈی دل لشکر تقریباً 35،000 انسانوں کی خوراک ایک دن میں چٹ کر جاتا ہے. آپ اسی سے اس وباء کے بھیانک پن کا اندازہ لگا لیجئے.
Locust Life Cycle
اب آتے ہیں اس اہم سوال کی طرف کہ یہ موجودہ وباء کب اور کیسے پھوٹی؟
بظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ خطہ عرب میں “ربع الخالی” کے علاقے میں دو عدد cyclones آنے کے باعث ٹڈی دل کو پانی اور نمی میسر آئے جس کے باعث اس کی افزایش میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا اور محض چند ماہ میں کروڑوں اربوں ٹڈی دل جمع ہوگئے اور جیسے ہی موسم گرم ہوا، انہوں نے یمن اور اومان کی جناب حجرت کردی. اور ایرن کے راستے پاکستان، جبکہ دوسری طرف افریقہ تک جا پہنچے. یہ تو وہ “سرکاری کہانی” ہے جو سنائی جا رہی ہے. مگر خود ٹڈی دل ماہرین حیران ہیں کہ کروڑوں اربوں ٹڈی دل کی افزایش “ربع الخالی” جیسے صحرا میں اس قدر تیزی سے کیسے ہوئی جبکہ وہاں سبزہ بھی نہیں ہے؟؟ جب آزاد ماہرین نے مزید تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یمن کے بارڈر کے ساتھ، ربع الخالی کے صحرا میں انتہائی دور دراز اور ناقابلِ رسائی علاقے میں ایک خفیہ امریکی فوجی بیس ہے. جس میں ڈرونز کا علاقائی آڈہ بھی ہے جو یمن میں ڈرون حملوں اور نگرانی کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جو 2011 میں بنایا گیا. یہ بات بھی ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ چھوٹے جہازوں اور ڈرونز کو مصنوعی بارش برسانے کیلئے عرصہ دراز سے استعمال کیا جا رہا ہے. لہذا یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ امریکہ نے افریقہ، ایران، صومالیہ سوڈان پاکستان میں زرعی اجناس کو نقصان پہنچانے اور شدید زرعی بحران پیدا کرکے خوراک کی کمی کا شکار کرنے کی کوشش کی ہو. مصنوعی سائیکلون ، نمی اور مصنوعی بارش سے وہاں genetically modified locusts کی ایسی نسل کی افزایش کی گئی جو تیزی سے بڑھتے ہیں. جہاں سے ٹڈی دل وباء پھوٹی، آزاد ماہرین بھی وہاں سے ان لشکروں کے نکلنے پہ حیران ہیں، لہذا وہاں امریکی خفیہ فوجی بیس اور ڈرونز کی موجودگی conspiracy theory کو تقویت دیتی ہے. یاد رہے کہ genetically engineered locust کی تیاری کوئی نئ بات نہیں، فصلوں کیلئے نقصاندہ حشرات الارض کو کھانے کیلئے genetically engineered locust اور دیگر ٹڈیوں کی بڑے پیمانے پہ لیبارٹری میں تیاری open secret ہے، جو عام گوگل سرچ سے بھی دیکھی جاسکتی ہے.
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عالمی اشرافیہ خوراک کی سپلائی کو اپنے ہاتھ میں کرنا چاہتی ہے
Locust Attack In Pakistan And Indiax -
A Great Conspiracy Behind the Assassination of General Zia
A Great Conspiracy Behind the Assassination of General Zia
ضیاء کا قتل کتنی بڑی سازش تھی اور اس کے پیچھے کون کون تھا؟
۔سترہ اگست کی شام چار بجے بہاولپور ائرپورٹ کے نزدیک اسلام کا ایک عظیم خادم، ملت اسلامیہ کا ایک جلیل القدر سپاہی، ایک عالمی مدبر، ایک سچا مسلمان اور شریف انسان ضیاء الحق اپنے 26 پاکستانی فوجی رفقاء اور 2 امریکی سفیروں کے ساتھ ایک طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگیا جس کے دہشت گردانہ کاروائی ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔سی 130 ہرکولیس طیارہ اپنے چار طاقتور انجنوں اور اپنی ساخت کے اعتبار سے ایک ایسا طیارہ ہے جو ہوائی اڈے کے اتنے قریب اور زمین سے صرف تین چار منٹ کے مرحلہ میں طے ہونے والی بلندی پر حادثے کا شکار ہو ہی نہیں سکتا۔ سوائے اس کے کہ پائیلٹس کو بے ہوش یا ہلاک کر دیا جائے۔یہی پاکستان ائر فورس کی تحقیقاتی کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا۔لیکن کیا واقعی جنرل ضیاء کسی سازش کو شکار ہوا تھا؟اور اگر سازش تھی تو اس سازش میں کون کون شریک تھے؟؟آئیے وقت کی گرد جھاڑ کر دوبارہ اس وقت رونما ہونے والے واقعات کو ترتیب وار دیکھتے ہیں۔یہ کام جتنا مشکل تھا اور جہاں جہاں تک اس کے لیے رسائی درکار تھی اور جس مہارت سے کیا گیا اور جتنے بڑے پیمانے پر اس کے تحقیقات رکوائی گئیں یہ کسی ایک فرد یا تنظیم کا کام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کی پشت پر یقیناً بہت بڑی بڑی طاقتیں تھیں۔جہازوں میں فٹ کر کے ہوابازوں کو بے ہوش کرنے کیسپول اور ان کو ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی ان دنوں صرف روس، امریکہ اور اسرائیل کے پاس تھی۔جنرل ضیاء کے قتل کا شبہ پانچ تنظمیوں پر کیا گیا جن میں روس کی کے جی بی، امریکہ کی سی آئی اے، بھارت کی راء، اسرائیل کی موساد اور پاکستان سے الذولفقار نامی دہشت گرد تنظیم شامل تھی۔بہاولپور کے قریب امریکی ٹینک کی کارکردگی کے مظاہرے کا اہتمام بھی امریکی فرمائش پر ہی کیا گیا تھا۔ جسے دیکھنے جنرل ضیاء نے جانا تھا۔بہالپور میں جہاں یہ حادثہ پیش آیا۔ طیارے کو ہوائی اڈے پر غیر ضروری طور پر کھڑا رکھا گیا حالانکہ اسے صدر پاکستان کو پہنچانے کے بعد فوری طور پر اپنے اڈے پر واپس چلا جانا تھا اور واپسی کے لیے دوبارہ واپس آنا تھا۔ہوائی اڈے پر سیکیورٹی انتظام صدر کے سیکیورٹی عملہ یا مرکزی فوجی اداروں کے بجائے مقامی حکام ہی کے ذمہ رکھا گیابہاولپور کے مئیر اور پیپلز پارٹی کے فوری وفاقی وزیر بنائے جانے والے مسٹر فاروق اعظم نے آموں کی پیٹیاں بظاہر تحفے کے طور پر دیں۔ ان پیٹیوں کو کسی سیکورٹی چیک کے بغیر طیارے میں رکھا گیا۔طیارے کو رن وے پر کھڑا رکھنے کے پراسرار عمل پر مستزاد کچھ سول اور غیر متعلقہ افراد کو دروازے کی مرمت یا ردوبدل کے کام پر طیارے میں داخل ہونے اور نامعلوم قسم کے آلات کے ساتھ کچھ کام کرتے رہنے کی اجازدی دی گئی جبکہ جہاز کے عملہ یعنی ہوابازوں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہ تھا۔خیال رہے کہ جہاز کا خودکار دروازہ ہواز باز کے اپنے کنٹرول پینل سے وابستہ ایک چیز ہے جس کے تاروں یا نالیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنا جہاز کے ہوابازی کے مجموعی نظام میں خرابی پیدا کرنے کا سبب ہوسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر جہاز کو کسی مرمت کی ضروت تھی بھی تو وہ اصولاً چکلالہ میں ہونی چاہئے تھی۔جہاز کے عملے میں شامل ایک ٹیکنیشن کو ضابطے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بہاولپور میں اپنے رشتہ داروں یا واقف کاروں کے گھر جانے کی اجازت دی گئی۔حادثے کے بعد جب طیارے کا ملبہ جل رہا تھا تو آگ بجھانے لے لیے کوئی کاروائی نہیں کی گئی نہ بہاولپور ائیر پورٹ سے نہ کسی میونسپل کارپوریشن سے کوئی آگے بجھانے والا عملہ روانہ ہوا اور نہ ہی دیہاتیوں کو آگ بجھانے کے لیے طیارے کے قریب جانے کی اجازت دی گئی۔جانبحق ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ پوسٹ مارٹم طارق بشیر چیمہ نامی شخص کے حکم پر روکا گیا جس کا بھائی فوراً بعد پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنا۔ جو کاغذات ایف آئی اے نے واپس نہیں کیے ان میں یہ بھی درج تھا کہ طارق بشیر چیمہ الذوالفقار سے وابستہ رہا تھا۔کسی نے اس بات کا بھی سراغ لگانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ دو بچے اور ایک خاتوں جو اس طیارے میں چک لالہ سے بہاولپور آئے تھے کون تھے اور کس کی اجازت سے اس طیارے میں سوار ہوئے تھے؟یہ معاملہ اس لحاظ سے اہم بتایا جاتا ہے کہ اس طرح شائد غیر متعلقہ افراد کو طیارے میں داخل کرنے کا تجربہ کیا گیا تھا۔ان تحقیقات سے آئی ایس آئی کو کیوں الگ رکھا گیا؟ حالانکہ آئی ایس آئی کے پاس اس حادثے کے حوالے سے سب سے مشکوک تنظیم الذولفقار کے بارے میں بہترین معلومات تھیں۔بہاولپور میں موجود فوجی عملہ کو جلد از جلد وہاں سے مختلف مقامات پر تبدیل کر دیا گیا۔حادثہ کے روز کرنل اعجاز نے صدر مملکت کی تقریبات کی پرائیویٹ فلم تیار کی تھی لیکن ان کا تبادلہ ہونے کی وجہ سے ان سے یہ فلم دسیتاب نہ ہوسکی۔ ریڈیو پاکستان نے جو ریکارڈنگ کی تھی اس کی ٹیپ بھی پولیس کو نہ ملی۔ایف آئی اے 15 ستمبر سے 10 دسمبر تک تحقیقات کرتی رہی اور پولیس کو اپنی رپورٹ مسلسل ارسال کرتی رہی۔ پھر اس نے نہ صرف اچانک تحقیقات روک دیں بلکہ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ بھی واپس کرنے سے انکار کر دیا۔پولیس کو جو رپورٹ واپس نہیں مل رہی تھی اس کے مطابق الذولفقار کے کمانڈر مرتضی بھٹو مارچ 88ء میں بھارت کی طرف سے سرحد عبور کر کے پاکستان آیا اور بہاولپور شہر پہنچا۔ اس کے ساتھ الذولفقار کا سرگرم کارکن پرویز عرف پیجی بھی تھا۔ انہیں مرحوم اصغر کے گھر کے ایک عزیز نے سرحد عبور کرنے میں مدد دی۔بہاولپور میں ان کا قیام جن ہوٹلوں میں ہوا ان میں باہر سے آئے ہوئے کچھ لوگ بھی ٹہرے تھے۔ آنے والوں کا تعلق بھارت سے بتایا جاتا ہے۔صدر غلام اسحاق خان نے اس حادثے کی تحقیقات کی ذمہ داری فتح خان بندیال کے ذمے لگائی اور اس کو تمام تحقیقاتی اداروں کے درمیان کوارڈینیٹر مقرر کیا۔ آنے والی پیپلز پارٹی حکومت نے فوری طور پر اس کو وہاں سے ہٹا کر سٹیل مل کا چیرمین لگا دیا۔ جس کے بعد فتح خان بندیال اور اس کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا کچھ پتہ نہ چلا کہ کہاں گئی۔لودھران پولیس تھانہ میں درج پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جو 523 صفحاف پر مشتمل تھی ایف آئی اے نے اپنی تحویل میں لے لی اور دوبارہ مانگنے پر بھی واپس نہیں کی۔ جس کے بعد پولیس اس کیس پر مزید کوئی کام نہ کر سکی۔اس حادثے میں صدر ضیاء کے علاوہ مسلح افواج کے 26 افراد شہید ہوئے بشمول چیرمین چیفس آف سٹاف اور افغان جہاد کے ہیرو جنرل اختر عبدالرحمن۔مسلح افواج کے سربراہ، اس کے ممکنہ جانشین اور چار دیگر جرنیلوں کے علاوہ چار برگیڈیرز اور کئی اعلی افسروں کی شہادت سے متعلق دہشت گردانہ کاروائی کی تحقیقات کو کیوں اور کیسے نظر انداز کر دیا گیا؟اگر یہ کہا جائے تو کہ پیپلز پارٹی حکومت ضیاء مخالف تھی تب تو یہ تحقیقات اور بھی ضروری تھیں تاکہ وہ خود کو پاک ثابت کر سکیں۔عدم دلچسپی کی صرف ایک ممکنہ صورت ہوسکتی ہے۔ وہ یہ کہ پیپلز پارٹی کو معلوم تھا کہ سازش کے ذمہ دار کون لوگ ہیں اور تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلے گا۔اس مفروضے کا پیپلز پارٹی کا سابقہ ریکارڈ بھی تقویت دیتا ہے۔ اسی پارٹی نے اپنے مخالفین بشمول وزیراعلی سرحد حیات محمد خان شیرپاؤ کی دھماکہ میں پراسرار موت، عبدالصمد اچکزئی، خواجہ محمد رفیق، ڈاکٹر نزیر احمد اور نواب محمد احمد خان جیسی شخصیتوں کے قتل کی بھی تحقیقات نہیں ہونے دیں جن کا شبہ خود اسی جماعت پر تھا۔ مقتولوں میں صرف ایک شخص نواب احمد خان کے قتل کی تحقیقات کرائی گئیں جس کے نتیجہ میں بلاخر بھٹو پھانسی چڑھا۔اس وقت پیپلز پارٹی کی دہشت گرد تنظیم الذولفقار پوری طرح ایکٹیو تھی۔حادثے کے فوراً بعد الذوالفقار کے ایک ترجمان نے ” یہ ہمارا ہی کام ہے” کا نعرہ لگایا تھا لیکن پھر پیپلز پارتی کے انتخاب کے خیال سے یہ نعرہ واپس لیا گیا۔ لیکن اس سے بھی پہلے چار پانچ ناکام حملوں کا کریڈیٹ لیتے رہے ہیں۔ جن میں سے دو وارداتوں کا تذکرہ بے نظیر نے اپنی کتاب ” دختر مشرق” میں بھی کیا ہے۔روس کی طرف سے بیان آیا کہ ” اس معاملے میں روس کو بلاوجہ ملوث کیا جا رہا ہے۔ ایسی تخریبی کاروائیوں کے ذریعے ممتاز شخصیات کو قتل کرانا ہمارا طریقہ نہیں۔ یہ کام سی آئی اے والے کرتے ہیں اور انہیں اکا تجربہ بھی ہے اور ضرورت بھی رہتی ہے “سب سے حیران کن کردار امریکہ کا تھا جو مسلسل تحقیقات کو بے معنی بنانے اور معاملہ رفع دفع کرنے میں مصروف نظر آیا۔ حالانکہ اس کے ملک کا سفیر اور ایک اعلی فوجی افسر اس حادثے میں ہلاک ہوا تھا۔امریکہ کے اس رویے پر جون 89ء خود امریکی کانگریس کی جرائم سے متعلق کمیٹی نے 17 اگست کے حادثے اور اس میں امریکی سفیر اور برگیڈیر کی ہلاکت کے حوالے سے اس بات کی تحقیقات شروع کی کہ “قانون کے مطابق ایف بی آئی نے کیوں اس معاملے کی تفتیش نہ کی؟دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس کی یہ تحقیقات بھی روک دی گئیں۔ ۔حالانکہ پاکستانی ائر فورس کا تحقیقات کمیشن اس کو دہشت گردی قرار دے چکا تھا لیکن امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ایف بی آئی کو اس کے بعد بھی پاکستان بھیجنے کی اجازت نہ دی۔ کیوں؟بعد میں یہ خبریں بھی آئیں کہ امریکی سنٹرل کمانڈ نے تحقیقات ٹیم بھیجنے پر اعتراض کیا تھا۔سب سے اہم معاملہ انڈیا میں تعئینات امریکی سفیر گنٹر ڈین کا رجان گنٹر ڈین نے بتایا کہ 1988 میں جب جنرل ضیا کے طیارے کا حادثہ ہوا، وہ انڈیا میں امریکہ کے سفیر تھے۔ کہنے لگے اسے یہودیوں نے مارا۔انھوں نے کہا، موساد نے اور میں یہ پورے یقین سے کہہ رہا ہوں اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں خود بھی یہودی ہوں۔اگست 1988







